ممبئی،4جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بھارتی ریزرو بینک کے سابق گورنر ارجت پٹیل نے کہا ہے کہ 2014 تک بینکوں، حکومت اور ریگولیٹر کی ناکامی کی وجہ سے ڈوبی قرض کے گڑبڑ کی موجودہ صورت حال پیدا ہوئی اور بینکوں کے سرمایہ میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے سب سے بینکاری کے شعبے میں جمود سے بچنے کو کہا ہے۔ پٹیل نے گزشتہ سال 10 دسمبر کو ریزرو بینک کے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔حکومت کے ساتھ تنازعات کے چلتے انہوں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔ اپنے استعفیٰ کے بعد پٹیل نے پہلی بار قرض پر رائے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک جہاں کچھ ضرورت سے زیادہ قرض دیتے رہے وہیں حکومت نے بھی اس کے کردار کو مکمل طور سے نہیں نبھایا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ریگولیٹر کو کچھ پہلے قدم اٹھانا چاہئے تھا۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر نے بدھ کوا سٹین فورڈ یونیورسٹی میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے بینکاری کے شعبے کا خاکہ پیش کیا۔ ان میں خصوصی طور پر عوامی سیکٹر کے بینکوں کے این پی اے اور موجودہ سرمایہ کو کچھ بڑھاچڑھا کر دکھایا جا رہا ہے اور یہ بڑے دباؤ سے نمٹنے میں ناکافی ہے۔ پٹیل نے کہا کہ ہم اس حالت میں کس طرح پہنچے؟ اس پر کافی الزامات ہیں۔یہاں قابل ذکر ہے کہ 2014 کے بعد جہاں مرکز میں حکومت تبدیل ہوئی وہیں اس وقت رگھو رام راجن گورنر کے عہدے پر تھے۔ اس وقت ریزرو بینک نے اسٹیٹ کے معیار کا جائزہ لینے شروع کیا، جس سے نظام میں بڑی مقدار میں دباؤکی کیفیت کا پتہ چلا۔ پٹیل نے کہا کہ ہمیں پرانی راہ پر واپس آنے کالالچ فتنہ چھوڑ دیناہوگا ۔